لکھنؤ،5؍ستمبر (ایس او نیوز؍ایجنسی) اتر پردیش ابھی کورونا کی مار سے ابھر بھی نہیں پایا ہے کہ وائرل بخار، ڈینگو، انسفلائٹس اور ٹائیفائڈ جیسی مہلک بیماریوں نے نہ صرف دستک دے دی ہےبلکہ ریاست پر قہر بن کر ٹوٹ پڑی ہیں اور ایک بار پھر یوگی سرکار بے بس نظر آرہی ہے۔حالات اتنے ابتر ہوچکے ہیں کہ گزشتہ ایک ماہ کے اندر اموات بڑھ کر 115؍ سے تجاوز کر گئی ہیں ۔
مہلوکین میں زیادہ تر بچے ہیں۔سب سے زیادہ اموات برج حلقہ کے اضلاع فیروز آباد، متھرااور گرد و نواح میں ریکارڈ کی جارہی ہیں مگر چند ایک اضلاع چھوڑ کر صوبہ کے تقریباً تمام ہی ضلعے ان میں سے کسی نہ کسی بیماری کی زد پر ہیں۔ عالم یہ ہے کہ سرکاری اور نجی اسپتالوں میں بیڈ کم پڑرہے ہیں ۔فیروزآباد اور متھرا سمیت کئی اضلاع میں مرکزی طبی ٹیم نے پہنچ کر نمونے جمع کئے ہیں مگر ان کی رپورٹ نہ آنے کے سبب ابھی تک یہ ٹیم یقین کے ساتھ کچھ بھی کہنے سے کترا رہی ہے۔ البتہ غیر سرکاری ذرائع کے مطابق جانچ میں ۵۰؍ فیصد معاملوں میں ڈینگو کی تصدیق ہوئی ہے۔
فیروزآباد میں سنیچر کو مزید ۲؍ا موات کے بعد یہاں حالیہ چند ہفتوں میں وائرل بخار اور ڈینگو سے فوت ہونے والوں کی تعداد ۷۷؍ ہو گئی ہے جبکہ غیر مصدقہ ذرائع یہاں اموات کی تعداد ۱۰۰؍کے قریب بتارہے ہیں۔ اب بھی سیکڑوں افراد اسپتال داخل ہیں۔یہاں یومیہ ۲۰۰؍سے زائد نئے مریض اسپتال پہنچ رہے ہیں جن میں سے بیشتر بچے ہیں۔ فیروز آباد کا کوشلیا نگر سب سے زیادہ متاثر ہے جہاں ۵۰؍بچے اور ۳؍ بالغ افراد کی موت ہوچکی ہے۔
متھرا میں اب تک وائرل بخار سے ۱۲؍ اور مین پوری میں۲۲؍اموات ہوچکی ہیں جبکہ فرخ آباد میں بھی ۹؍افراد نے دم توڑ دیا ہے۔ یہاں ۲۰۰؍زیر علاج نئےمریضوں میں سے ۵۰؍بخار میں مبتلا ہیں۔ حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ضلع اسپتال میں بخار کیلئے ۵؍ وارڈ مختص کردیئے گئے ہیں جن میں ۳۰۔۳۰؍بیڈ ہوں گے۔یہاں ڈینگو کے مریض بھی خاصی تعداد میں مل رہے ہیں۔ اب تک ڈینگو کے۴؍ مریضوں کی تصدیق بھی ہوچکی ہے۔
آگرہ کے ایس این میڈیکل کالج میں ہی یومیہ ۱۵۰۰؍سے زائد مریضوں کی جانچ ہورہی ہے۔ سنیچر کو یہاں ۱۴؍سو سے زائد نئے مریضوں کی خبر ہے۔ سہارنپور، میرٹھ، علی گڑھ، ہاپوڑ سمیت بیشتر اضلاع میں بھی ان بیماریوں نے پیر پسار لئے ہیں۔میرٹھ میں یومیہ تقریباً ایک ہزار لوگ او پی ڈی پہنچ رہے ہیں جن میں سے ۴۰؍فیصد کے قریب بخار میں مبتلا ہیں۔
کانپور میں وائرل بخار سے زیادہ ڈینگو کا قہر ہے جہاں کے مشہور ہیلٹ اسپتال میں روزانہ ۱۵۰۰؍ کے قریب مریض آرہے ہیں۔ جمعہ کو یہاں ۱۴۷۸؍نئے مریض آئے جبکہ سنیچر کو یہ تعداد ۱۸۸۶؍ رہی۔ان میں سے ۷۰۰؍سے زیادہ بخار کے مریض تھے۔کچھ مریضوں کو سانس لینے میں دشواری تو کچھ کوڈائریا کی بھی شکایت تھی۔پریاگ راج میں یومیہ ایک ہزار سے زائد لوگ او پی ڈی پہنچ رہے ہیں جن میں سے ۶۰؍فیصد بخار کے مریض ہیں۔ مودی کا پارلیمانہ حلقہ بنارس اورریاستی راجدھانی لکھنؤ بھی محفوظ نہیں ہیں۔ یہاں بھی بخار کے سیکڑوں مریض روزانہ سامنے آرہے ہیں۔ لکھنؤ میں ڈینگو کے معاملات کا شبہ ظاہر کیا جارہاہے۔